تحریر: مولانا سید مبین حیدر رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ گواہ ہے کہ ابتدائے حیات سے حق وباطل نور و نار اور اندھیرے و اجالے کا تصادم رہا ہے۔ قاتل و مقتول ظالم و مظلوم کی نسلی و فکری لکیریں تاریخ کی ہتھیلی پر برابر سے چلتی رہی ہیں اور وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کو کاٹتی رہی ہیں۔
ہابیل و قابیل سے یہ داستان شروع ہوئی جو مختلف ادوار میں بدلتی رہی اور لمحوں سے لے کر صدیوں کی طولانی کروٹوں میں لپٹی ہوئی ہے۔
اندھیروں کے باسی ظلمت کدوں کے پروردہ بہروپئے ہر عہد میں چولے بدل کر آتے رہے ۔ سامری زادوں نے بھانت بھانت کے سنپولوں کو اپنی خودساختہ جھولیوں سے کانپتے ہاتھوں کو نکال کر بساط باطل پر ڈالے مگر ہر وقت کے موسی کے ید بیضا ء میں موجود الٰہی عصا نے اژدہے کی صورت ان کو نگل کر ان کی بساط الٹ دی اور ان کی ساری چالوں کو نقش بر آب کردیا اور ان کی رسوائی طشت از بام ہوگئ۔۔۔ جب جب نمرودیوں کے فلک بوس ظلم کےشعلوں نے منھ کھولےاور اپنے قد علم کئے تو ابراہیمی ہمالیائ قدموں نے ان کو روند کرراکھ کر ڈالا اور پھر اس پر بیٹھ کر شکر کا سجدہ کیا ۔۔۔یہ سلسلہ تھما نہیں بلکہ موجوں کی مانند کروٹ لیتی صدیوں کے ساتھ ہم سفر رہا اور ایک بار پھر خدا نے بشریت پرلطف و احسان کرتے ہوئے تاجدار ختم نبوت کو مبعوث کیا اور بس اعلان رسالت ہوتے ہی سارے دشمنوں نے جمگھٹا کیا اور نت نئے انداز میں یلغار کیا مگر رسول اکرم نےان سارے طوفانوں کو اپنے وجود کا "طواف "کرنے پر مجبور کردیا ۔
بدر سے تبوک تک مختلف النوع میدانوں میں طرح طرح کے اسلحے اور فوجی طریقے اپنائے گئے مگر سارے جنگی بھڑکتے شعلوں پر رئیس بطحا ابو طالب کے سپوت علی مرتضیٰ ع نے تلوار کا پانی چھڑک کر ان کو خاکستر کردیا باطل گماشتوں کی ناک رگڑ دی اور کفر کی سینگ کو توڑ دیا ۔۔۔
لیکن چند دہائیوں بعد ایک تپتے صحرا میں بدر واحد کے کینوں نے فوجی صورت میں ایک جٹ ہوکر شمع الہی کو اپنی ناپاک پھونکوں سے بجھا نے کی ناکام کوشش کی مگر نوک نیزہ سے فتح حسینی کا اعلان ہوا۔
بدر سے کربلا تک اسلام کے خلاف ہر سازش و ہجوم ویلغار میں یہودیت پیش پیش رہی ہے کبھی براہِ راست اور کبھی چہرے پر خوف ومصلحت کی نقاب ڈال کر۔۔۔ اور یہ سلسلہ اآج تک جاری ہے ۔
دنیا کی موجود ہ صورت حال کسی سے پوشیدہ نہیں یہودی گر گے میراث علوی وحسینی پر گھات لگائے بیٹھے ہیں اور مہلت پاتے ہی زخم لگاتے ہیں اور بزعم خود اس شمع انقلاب حسینی کو اپنے متعفن پھونکوں سے گل کرنے کی سعی لا حاصل کر رہے ہیں ۔۔
ان کا نعرہ یہ ہے کہ : ہم حکومت بدل دیں گے ۔ ہم رہبر معین کریں گے ۔۔۔
مگر ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ: کتے کبھی شیروں کے مقدر نہیں لکھتے ۔۔۔
یہ سنت الٰہی ہے کہ ایک شمع گل ہوتے ہی دوسری شمع اس سے بہتر یا اس جیسی بالکل ہو بہو۔ روشن ہو جاتی ہے تاکہ۔ اندھیرے کا راج نہ ہونے پائے ۔
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
علی کے فورا بعد مجتبی کا آنا تدبیر الہی ہے اور دشمن کی نا کا می ۔۔۔ کبھی بھی شمع حسینی کی لو مدھم نھیں ہوئ ہے اور نہ ہوگی ۔
آج ایک بار پھر یہودیت اور اس کے بونے قد نام نہاد مسلمان حکمران گماشتے اسلحوں کی دیمک زدہ بیساکھیوں کے سہارے اپنے لرزتے قدموں پہ کھڑے ہو کر فاتح خیبر کے محب جیالوں پر حملے کر رہے ہیں مگر ان کی ہر ایک کنکری کا جواب کوہ طور کی شکل اور ہر چنگاری کے بدلے جہنم کے بھڑکتے اور چنگھاڑ تے شعلوں کی صورت دیا جا رہا ہے ۔
ہم نے دن میں تارے دکھانا تو سنا تھا۔ مگر: لشکر حیدر کرار اور سورج پلٹانے والے علی "ع "کے جانباز محبوں نے۔ راتوں میں سورجوں کو اگادیا ہے ۔۔۔ کچھ متشنج طبیعت .بزدل فکر . ذہنی مریض اور مالیخولیا ئ بیمار کہہ رہے ہیں انقلاب اسلامی کی حمایت نہ کرو۔ گھروں میں شہید کا ماتم کر لو۔ شاہراہوں اور عمومی مقامات پر سوگ نہ مناؤ .یہ وہی امیہ زادے ہیں جو ذکر وفکر کربلا کو عام نہیں ہونے دینا چاہتے ۔۔۔
یاد رکھئے!
چمگادڑوں کے احتجاج سے سورج نھیں ڈوبتا ۔۔۔
خدایا محاذ حق اور اس کے محافظوں کی حفاظت فرما!









آپ کا تبصرہ